مادری زبان کی اہمیت - رسول حمزہ توف کا ایک سبق آموز واقعہ

 مادری زبان کی اہمیت

رسول حمزہ توف کا ایک سبق آموز واقعہ


آج کل ہم اپنے بچوں کو دوسری زبانیں سکھا کر ان ہی زبانوں میں بات کرنے کو فخر سمجھتے ہیں اور بڑے ہی متکبرانہ انداز میں ان سے دوسری زبانوں میں بات کرتے ہیں اور شیخی بگھارتے ہیں کہ ہمارے بچے دوسری زبانوں میں بات کرتے ہیں - ہوتا کیا ہے کہ ہم نہ تو اپنی مادری زبان صحیح سے بول پاتے ہیں نہ دوسری زبان کے ساتھ انصاف کرپاتے ہیں - میں تو کہتا ہوں جس کو اپنی مادری زبان میں بولنا لکھنا پڑھنا نہ آتا ہو یا اس زبان کے استعمال پر عار محسوس کرتا ہو وہ اپنی اور اپنی قوم کی ترقی میں کوئی حصہ نہیں دے سکتا، وہ ایک مشین ہو سکتا ہے لیکن اپنی قوم کے تئیں ایک دردمند اور خیرخواہ کبھی نہیں ہوسکتا - رسول حمزہ توف، میرا داغستان میں ایک واقعہ نقل کرتے ہیں " ایک دفعہ میں پیرس کے ادبی میلے میں شریک ہوا تو وہاں میری آمد کی خبر سن کر ایک مصور مجھ سے ملنے آیا اور کہا:

میں بھی داغستانی ہوں، فلاں گاؤں کا رہنے والا ہوں لیکن تیس برس سے یہاں فرانس میں ہوں۔"

داغستان واپسی پر میں نے اس کے عزیزوں اور ماں کو تلاش کیا۔ اس مصور کے بارے میں اس کے خاندان کو یقین تھا کہ وہ مر چکا ہے۔ مصور کی ماں یہ خبر سن کر بہت حیران ہوئی۔ اس ماں کو علم ہی نہ تھا کہ اس کا بیٹا ابھی تک زندہ ہے۔

میں نے مصور کی ماں کو یقین دلاتے ہوئے کہا: "آپ کا بیٹا واقعی زندہ ہے اور فرانس میں خوش و خرم ہے۔"

یہ سن کر اس کی ماں بہت روئی۔

 اس دوران مصور کے رشتہ داروں نے اس کے وطن چھوڑنے کا قصور معاف کر دیا تھا کیونکہ انہیں یہ جان کر مسرت ہوئی کہ ان کا کھویا ہوا عزیز ابھی زندہ ہے مصور کی ماں نے مجھ سے پوچھا:

 "بتاؤ ... اس کے بالوں کی رنگت کیسی ہے ؟ اس کے رخسار پر جو تِل تھا کیا اب بھی ہے ؟ اس کے بچے کتنے ہیں ؟"

اور پھر دفعتاً مصور کی ماں نے پوچھا : 

’’رسول ! تم نے میرے بیٹے کے ساتھ کتنا وقت گزارا؟‘‘

میں نے کہا: "ہم بہت دیر بیٹھے رہے اور داغستان کی باتیں کرتے رہے۔"

پھر اُس کی ماں نے مجھ سے ایک اور سوال کیا : ’’اُس نے تم سے بات چیت تو اپنی مادری زبان میں کی ہوگی نا؟‘‘

’’نہیں۔۔۔ہم نے ترجمان کے ذریعے بات چیت کی۔ میں ازبک بول رہا تھا اور وہ فرانسیسی۔ ‏

وہ اپنی مادری زبان بھول چکا ہے۔" مصور کی بوڑھی ماں نے یہ سنا اور سر پر بندھے سیاہ رومال کو کھول کر اپنے چہرے کو چھپا لیا جیسے پہاڑی علاقوں کی ماںُیں اپنے بیٹے کی موت کی خبر سن کر اپنے چہروں کو ڈھک لیتی ہیں۔ اس وقت اوپر چھت پر بڑی بڑی بوندیں گر رہی تھیں، ہم داغستان میں تھے پھر ایک طویل خاموشی کے بعد ماں نے کہا : ’’رسول ! تم سے غلطی ہوئی۔ میرے بیٹے کو مرے ہوئے ایک مدت بیت گئی۔ جس سے تم ملے وہ میرا بیٹا نہیں ‛ کوئی اور ہو گا کیونکہ میرا بیٹا اس زبان کو کس طرح بھلا سکتا ہے جو میں نے اسے سکھائی تھی۔"

اسی لئے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو دوسری زبانیں سکھانے سے پہلے اپنی مادری زبان میں بولنا لکھنا پڑھنا ضرور سکھائیں - یہ اپنی مادری زبان ہی ہوتی ہے جو ایک قوم کی ترقی و ترویج اور اس قوم کو زندہ رکھنے میں بہت ہی خاص کردار نبھاتی ہے - مادری زبان میں ہی ایک نسل اپنے ثقافتی مستقبل کی تعمیر کر تی ہے ۔ بہت عمدہ بات ہے کہ ہم اپنے بچوں کو دوسری زبانیں سکھاتے ہیں اور واقعی یہ ضروری بھی ہے لیکن اپنی قوم اور اپنی شناخت کے لئے اپنی مادری زبان کا سیکھنا بہت اہم اور بنیادی ضرورت ہے -

Comments