والد سے اظہار محبت کا عالمی دن اور سال بھر کا محاسبہ
والد سے اظہار محبت کا عالمی دن اور سال بھر کا محاسبہ
ہمیں پڑھاؤ نہ رشتوں کی کوئی اور کتاب
پڑھی ہے باپ کے چہرے کی جھریاں ہم نے
جون کے تیسرے اتوار کو دنیا بھر میں والد سے اظہار محبت کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ اس بات کا اعتراف کیا جاسکے کہ ایک شفیق باپ سایہ دار شجر کی مانند ہے، جس کا کوئی نعم البدل نہیں. آج اس موقع پر بچے اپنے والد کو تحائف دے کر اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔
ماں کی طرح باپ بھی اولاد کے لیے سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں، ایک جانب جہاں ماں اپنی اولاد کو ہر مشکل سے دور رکھتی ہے وہیں باپ اپنی اولاد کی ہر خواہش پوری کرنے کے لیے دن رات محنت کرتا ہے۔باپ دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے جو کہ اپنے بچوں کی پرورش کے لئے اپنی جان تک لڑا دیتا ہے، ہر باپ کا یہی خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ سے اعلیٰ میعار زندگی فراہم کرے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی بسر کرسکے اور معاشرتی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکتے.
ان کے ہونے سے بخت ہوتے ہیں
باپ گھر کے درخت ہوتے ہیں
ایک دن متعین کرنا اور اسی دن تحفے تحائف دے کر والد صاحب کو خوش کرنے کی کوشش کرنا اور چند تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر شائع کردینے سے ہمارے تئیں ان کے حقوق سے بالکل بھی بری نہیں ہوا جاسکتا - ہاں میں اس بات کے بھی بالکل مخالف نہیں ہوں کہ سال میں ایک دن والد صاحب کے نام کیا جائے اور اس دن کو والد صاحب کے نام منایا جائے - اس بات میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ سال کا ایک دن متعین کیا جائے اور یہ دن والد صاحب کے نام کیا جائے - البتہ آج کے اس دن کو ایک بہترین موقع جان کر اپنے والد صاحب کے ساتھ گزرے سال بھر کا محاسبہ کیا جائے تو میرے خیال میں اس دن کا حق ادا ہوجائے گا - اس دن اس بات کا محاسبہ کیا جائے کہ مجھ پر میرے والد صاحب کے کیا کیا حقوق ہیں، میں کتنے حقوق کو ادا کرپاتا ہوں، کس حد تک اپنے والد صاحب کے ادب، احترام، اس کی خدمت کا خیال رکھ پاتا ہوں - آج کے اس دن پہلے اپنا محاسبہ کریں، کہی کوئی کمی دکھائی دے تو اس بات کا وعدہ کریں کہ آئندہ جب یہ دن آئے گا ان شاء اللہ یہ کمی بھی پوری ہوگی ، پھر اپنے والد صاحب کے ساتھ تصاویر بنا کر میڈیا میں شائع کریں -
آج کے دور میں اکثر والدین اپنی اولاد سے ناراض ہوتے ہیں کہیں وراثت کا معاملہ تو کہیں بہو کا مسئلہ، لیکن ہمیں چاہیے کہ صلح کرنے اور اپنے والدین کو منانے میں پہل کریں، ان سے بات کریں کہی اسی ناراضگی میں ان کی یا ہماری وفات ہوجائے اور معاملہ محشر میں اللّہ تعالیٰ کے دربار میں پہنچ جائے جہاں کوئی توبہ نہ کوئی سفارش ہی کام آئے گی - کوشش کریں کہ والدین سے بات کریں ان کو سمجھنے کی کوشش کریں، ان کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں، ان کی ناراضگی دور کرنے کی کوشش کریں، ان کو خوش کرنے، ان کے عزت و وقار کی قدر کریں، ان کی خدمت کے مواقع کی تلاش میں رہیں اور ان کو راضی کرکے رکھیں - اپنی انا، تکبر اور اپنی ازواج و اولاد کو خوش رکھنے کے چکر میں الجھ کر کہیں ہم اس جنت کے دروازے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند نہ کریں - آج اس عالمی دن کو ایک موقع اور ایک مہلت سمجھ کر جنت کے اس دروازے کو سلامت رکھنے کی سعی کریں -
آج کے اس عالمی دن کے موقع پر وہ لوگ جن کے والد صاحب اس دار فانی سے رخصت ہوچکے ہیں وہ لوگ بھی اپنا محاسبہ کریں کہ آیا وہ اس بات سے واقف ہیں کہ مرحوم والد کے کیا حقوق ہوتے ہیں؟ کس حد تک وہ ان حقوق کو ادا کرپائے ہیں؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ ماں اپنی اولاد کو پالنے کے لئے بے پناہ قربانیاں دیتی ہے لیکن باپ جو تکالیف و مشکلات سہتا ہے وہ بھی ناقابل بیان ہیں۔ ماں کا اپنا ایک مقام ہے لیکن والد صاحب کا بھی ایک اعلیٰ مقام ہے - والدہ محترمہ اگر جنت ہیں تو والد صاحب جنت کے دروازے ہیں -
مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود بھی وہ جلتا رہا
میں نے دیکھا اک فرشتہ باپ کی پرچھائی میں
اللّہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے والدین کی بے انتہا خدمت اور فرمانبرداری کہ توفیق عطا فرمائے اور ہمارے والدین کو ایمان کے ساتھ خوش اور سلامت رکھے آمین اور جن کے والد یا والدہ یا دونوں اس دار فانی سے رخصت ہو چکے ہیں ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے آمین ثم آمین
Comments
Post a Comment