12 timeless lines from Mirza Ghalib and Mir Taqi Mir's shayaris

 12 timeless lines from Mirza Ghalib and Mir Taqi Mir's shayaris

The timeless duo


Mirza Ghalib and Mir Taqi Mir are considered to be the epitome of urdu literature and beauty. The lines, the emotions, the pain, the sorrow, the love it was and still remains precious, to say the least.

Here I mention some of the most beautiful lines by them and a special tribute that Ghalib have to Mir.



Ghalib :

 ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے میرے ارمان پھر بھی کم نکلے

Mirza :

کہتے تو ہو یوں کہتے، یوں کہتے جو وہ آتا

سب کہنے کی باتیں ہیں، کچھ بھی نہ کہا جاتا 

Ghalib :

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن 

دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے 

Mir: 

ایک محروم چلے میرؔ ہمیں عالم سے

ورنہ عالم کو زمانے نے دیا کیا کیا کچھ

Ghalib :

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق

 وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

Mir:

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

 جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

Ghalib :

عشق پر زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالبؔ

 کہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

Mir:

دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے

 یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

Ghalib :

تم نہ آۓ ! تو ، کیا سحر نہ ہوئی ؟

ہاں ! مگر چین سے ، بسر نہ ہوئی

Mir:

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے

اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

Ghalib :

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا 

ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

Ghalib writes for Mir:

ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ 

کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا 

Mir:

نازکی اس کے لب کی کیا کہئے 

پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے


Comments