اشرف المخلوقات یا جانوروں سے بدتر.

.......... اشرف المخلوقات یا جانوروں سے بدتر...........

کیا دو آنکھیں، دو کان، ایک منہ، ہاتھ پیر کا ہونا.... کھانا پینا، بچے پیدا کرنا، بولنا آنا وغیرہ ہی ہمیں اشرف المخلوقات بناتے ہیں - کیا ہمیں بولنا آتا ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ تمام مخلوقات سے افضل ہیں؟ کیا جانور کھاتے پیتے نہیں ہیں بچے پیدا نہیں کرتے اپنے بچوں کو نہیں پالتے؟ ہم بولتے ہیں کیا بس یہی ایک فرق ہمیں اشرف المخلوقات بناتا ہے؟ قاضی حارث اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں...... 
" کل یو نیورسٹی گیا تو ایک ساتھی کو بہت پریشانی میں پایا ۔ استفسار پر معلوم ہوا کہ ان کی کوئی رشتہ دار خاتون بچپن میں کسی چوٹ کے باعث زندگی بھر ماں بننے سے معذور ہو گئی تھیں ۔ اب جب شادی کی عمر ہوئی تو رشتہ دیکھنے والوں کو جب بتایا جاتا کہ لڑکی ماں نہیں بن سکتی تو رشتہ ٹھکرا دیا جاتا۔ پھر ایک رشتہ آیا جس میں لڑکے کے دونوں گردے ناکارہ تھے اور اس نے شادی کیلیے یہ شرط رکھی کہ لڑکی مجھے ایک گردہ دے گی تب شادی کروں گا ۔ لڑکی بے چاری آنکھوں میں شادی شدہ زندگی کے سپنے سجائے راضی ہو گئی ۔ نکاح ہوا اور رخصتی آپریشن کے بعد ٹھہری ۔ پھر آپریشن ہوا، لڑکی کا گردہ لڑکے کو لگا دیا گیا اور وہ صحت مند ہو گیا ۔ اب وہی لڑکا اور اس کے گھر والے جو آپریشن سے پہلے لڑکی کی آو بھگت کر رہے تھے آپریشن کے بعد لڑکی کو طعنے دے رہے ہیں اور کردار پر کیچڑ اچھال رہے ہیں اور طلاق کی دھمکیاں دے رہے ہیں ۔ لڑکی نے خود کشی کی کوشش کی ہے جس کی خبر ہمارے اس ساتھی کو ملی تو وہ پریشان بیٹھے ہوئے تھے ۔" ایسے گھٹیا اور بد طینت لوگ اللہ کی زمین پر فخر سے چلتے ہیں کہ وہ اشرف المخلوقات ہیں اور ان کو فرشتوں تک پر برتری حاصل ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ انہی کی طرح ہیں جن کو قرآن میں چوپایوں سے بھی بدتر قرار دیا گیا ہے ۔ اللّہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے کر صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات بنائے آمین ثم آمین

Comments