خالق کے بنائے اپنے وجود سے نفرت نہیں کریں، بلکہ اپنی طاقتوں کو پہچان کر کام میں لائیں-
ایک دفعہ ضرور پڑھیے گا!
شیخ بلال
ایک جنگل میں چوہے نے دعائیں مانگ مانگ کر فرشتہ بلالیا۔ فرشتے نے خواہش پوچھی تو بولا مجھے بلی سے ڈرلگتا ہے، مجھے بلی بنا دو۔ فرشتے نے اس کو بلی بنا دیا اور چلا گیا۔ اگلی رات پھر دعاؤں کے زور پر بلوایا گیا تو فرشتے نے بلی بنے چوہے سے پھر پوچھا کہ اب کیا؟ تو اس نے کہا کہ مجھے بلی بن کر مزہ نہیں آرہا۔ کتا مجھکو گھورتا اور غراتا ہے، آپ مجھے کتا بنا دو۔ فرشتے کے لیے کیا مشکل تھا، اس نے چٹکی بجائی اور بلی کو کتے کے قالب میں ڈھال کر غائب ہو گیا۔
تیسری رات چوہے سے بلی اور پھر کتا بنے جانور کی آہ نے آسمانوں کو جالیا۔ فرشتہ بغیر شور کی پرواز کے اترا اور کتے کی جانب دیکھا، مم مجھے بھیڑیا بنادو کل سے میں کتا بنا ہوں تو پتہ چلا ہے کہ بھیڑیے کے دانت مجھ سے زیادہ نوکیلے ہیں اور وہ مجھے سے زیادہ تیز بھاگتا ہے۔ میں اس سے لڑ بھی نہیں سکتا۔ فرشتے کا کام دعاؤں کا جواب دینا تھا ، سو اس نے کتے کو بھیڑیا بنا دیا اور چلا گیا۔ اگلی رات وقت سے ذرا پہلے ہی فرشتہ چوہے سے قالب بدلے بھیڑیے کے سامنے کھڑا تھا۔ اب کس بات کی مناجات ہیں؟ اس نے پوچھا! بھیڑیے کے روپ میں چوہے نے کہا، وہ، وہ وہ مجھے شیر سے ڈر لگتا ہے۔ کیا اس کی چوڑی چھاتی ہے اور زوردار پنجہ، مجھے مارے گا تو سہہ نہیں پاؤں گا۔ اے اچھے فرشتے بس تم مجھے شیر بنا دو۔ یہ کہہ کر بھیٹریا پچھلی راتوں کی طرح قالب بدلنے کے لیے آنکھیں بند کر کے
بیٹھ گیا۔ فرشتے نے جب اس کو آنکھیں کھولنے کوکہا تو وہ دیکھ کر چیخ اٹھا، یہ کیا؟ تم نے مجھے پھر سے چوہا بنا دیا ؟ مجھے تو شیر بننا تھا، چو ہاروہانسا ہو گیا۔
ہاں ! میں نے تمہیں واپس چوہا بنادیا ہے، کیونکہ میں جان گیا ہوں کہ تم غلط دعامانگ رہے ہو۔ میں تمہارے جسم کو شیر، ہاتھی، گینڈا جو بھی طاقتور جانور میں ڈھال دوں گا تو کچھ نہیں ہوگا۔ تمہیں تب بھی کسی نہ کسی سے ڈر لگتا رہے گا۔ کیونکہ تمہارا قلب چوہے کا ہے، دل تمہارا چوہے کا ہی رہے گا اور اس دل سے اپنے سے بھاری جتھے کا خوف کبھی نہیں نکل پائے گا۔ یہ کہہ کرفرشتہ اڑان بھرنے لگا کہ چوہے کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر رک گیا-
" تو میں کیا کروں؟ اپنا قلب کیسے بدلوں؟" چوہے نے سوال کیا، کیا تم میرا دل نہیں بدل سکتے ؟ نہیں ! دل بدلنا میرا کام نہیں ہے۔ وہ تب بدلے گا، جب وہ خود چاہے گا۔ جب تم دل سے چاہو گے تو تمہارا دل بدلے گا۔ پھر تمہیں خالق کی حکمت سمجھ میں آئیگی اور چوہا ہونے کی وہ طاقت نظر آئے گی جو بلی، کتے، بھیڑیے یا شیر کے پاس بھی نہیں ہے۔ تب تم خالق کے بنائے اپنے وجود سے نفرت نہیں کرو گے، بلکہ اپنی طاقتوں کو پہچان کر کام میں لاؤ گے۔
Comments
Post a Comment