" عبادت کا حق ادا کرنے اور قبولیت کی قوی امید کے لئے ایک آسان اور مفید طریقہ "

 " عبادت کا حق ادا کرنے اور قبولیت کی قوی امید کے لئے ایک آسان اور مفید طریقہ "

اللّہ کے رسول صلی اللّہ علیہ وسلم کی مشہور حدیث شریف ہے جسے حدیث جبرائیلؑ بھی کہتے ہیں ،اُسی حدیث شریف کا ایک حصہ ہے ..........

قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِحْسَانُ قَالَ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ کَأَنَّکَ تَرَاهُ فَإِنَّکَ إِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاکَ ……….

اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول احسان کس کو کہتے ہیں؟ فرمایا احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے تو (کم از کم اتنا یقین رکھو) کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے……….

صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 100

حدیث شریف کو سمجھنے کے لئے ایک عام سی مثال سمجھتے ہیں - کسی بھی دفتر میں جب ایک ذمہ دار اپنے ماتحت کو اپنے سامنے بٹھا کر کوئی کام کراتا ہے اور وہ ماتحت بھی یہ سمجھ کر وہ کام انجام دیتا ہے کہ میرا مالک یا افسر مجھے دیکھ رہا ہے ،میرے افسر کی مجھ پر نظر ہے، اول تو وہ کام بڑی خوش اسلوبی سے انجام دیتا ہے اور دوسرے وہ اس کام کو ویسے ہی بہترین طریقے سے کرتا ہے جیسا اس کے مالک کو پسند آتا ہے اور واقعی میں اس ماتحت کا بس اتنا خیال رکھنا کہ مجھے میرا افسر دیکھ رہا ہے، اس کا کام بہتر بناتا ہے اور نتیجتاً اس کا وہ کام ایک تو قابل قبول ہوتا ہے اور افسر اسے شاباشی و انعام سے بھی نوازتا ہے - بس اگر یہی مثال سمجھ کر اور حدیث شریف کو ذہن میں رکھ کر ہم عبادت کریں تو ہماری عبادت کامل ہوجائے گی اور اللّہ تعالیٰ سے قوی امید ہے کہ اللّہ تعالیٰ اس عبادت کو پسند بھی فرمائینگے اور انعام سے بھی نوازینگے - پس اس حدیث شریف کو خوب اچھے سے یاد رکھنا ہے اور ہمیشہ جب بھی عبادت کریں تو یہی سمجھ کر کرنا ہے کہ اگر ہم اپنے مالک اپنے خالق اللّہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ رہے ہیں لیکن وہ ہمیں ضرور دیکھ رہا ہے اور انہیں ہمارا کام ہماری عبادت پسند آنی چاہیے اور وہ ہمیں انعام سے نوازنا چاہیے - اللّہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خشوع و خضوع کے ساتھ اپنی عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری عبادت کو قبول فرما کر ہمیں اپنے خاص انعامات سے نوازے - آمین ثم آمین

Comments